دو لسانی (bilingual) شخص بمقابلہ زبانی مترجم: دونوں میں کیا فرق ہے؟
تمام زبانی مترجمین دو لسانی ہوتے ہیں، مگر تمام دو لسانی افراد مترجمین نہیں بن سکتے۔
- زبانی مترجم ایک ایسا باقاعدہ تربیت یافتہ دو لسانی ماہر ہوتا ہے جو بین الثقافتی مہارتوں (bicultural skills) کا حامل اور اخلاقی ضابطہ کار (code of ethics) کا پابند ہوتا ہے۔ آسٹریلیا میں زبانی مترجم کے طور پر کام کرنے کا معیار NAATI سے تصدیق شدہ ہونا ہے۔
- دو لسانی شخص دو زبانیں بول سکتا ہے لیکن اس نے زبانی مترجم کے طور پر کوئی باقاعدہ تربیت حاصل نہیں کی ہوتی اور نہ ہی وہ کسی اخلاقی ضابطہ کار کا پابند ہوتا ہے۔
زبانی مترجمین کو کیا چیز منفرد بناتی ہے؟
تربیت اور سرٹیفیکیشن
مترجمین کو پیشہ ورانہ طور پر کام کرنے کے لیے درکار مہارتیں حاصل کرنے کے لیے باقاعدہ تربیت کی ضرورت ہوتی ہے۔ NAATI سرٹیفیکیشن دینے سے پہلے ان کی مہارتوں اور تجربے کی جانچ کرتا ہے، تاکہ آپ کو اعتماد ہو کہ ان کی صلاحیتوں کا مکمل جائزہ لیا جا چکا ہے۔
زبان اور ترجمانی کی مہارتیں
NAATI اس بات کو یقینی بنانے کے لیے مختلف مہارتوں کا جائزہ لیتا ہے کہ مترجمین کا کام درست اور پیشہ ورانہ ہو۔ اس میں لسانی توازن، یادداشت، وضاحت مانگنے کا اعتماد، بیک وقت دو لوگوں کی گفتگو کو سنبھالنا، اور بات کرنے والے کے لہجے اور انداز سے مطابقت پیدا کرنے کی صلاحیت وغیرہ شامل ہیں۔ مترجمین کہی گئی بات کے اندر چھپے ثقافتی مفہوم کو سمجھنے اور دوسری زبان میں اس کو بہترین طریقے سے بتانے میں ماہر ہوتے ہیں۔
پیشہ ورانہ رویہ
مترجمین نو (9) رہنما اصولوں پر مشتمل ایک اخلاقی ضابطہ کار کی پیروی کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر، مترجمین کے لیے درستگی، غیر جانبداری، اور رازداری برقرار رکھنا لازمی ہے۔ وہ رضامندی کے بغیر معلومات کسی سے شیئر نہیں کرتے (سوائے ان حالات کے جہاں قانوناً ایسا کرنا ضروری ہو)۔ وہ اپنے کام کے دوران پیدا ہونے والی اخلاقی الجھنوں کو سنبھالنے کی بھی پوری مہارت رکھتے ہیں۔
مخصوص علم
بہت سے مترجمین مخصوص شعبوں، جیسے کہ قانون یا صحت پر توجہ مرکوز کرتے ہیں۔ اس سے درست ترجمانی کرنے کی ان کی صلاحیت بڑھ جاتی ہے کیونکہ وہ متعلقہ اصطلاحات اور حالات کا گہرا علم حاصل کر لیتے ہیں۔ NAATI کچھ زبانوں میں ایسے مترجمین کے لیے تصدیق شدہ ماہر زبانی مترجم (سرٹیفائڈ اسپیشلسٹ انٹرپریٹر) کی اسناد پیش کرتا ہے جو صحت یا قانونی ماحول میں انتہائی لسانی مہارت رکھتے ہیں۔
دو لسانی افراد کو مترجمین کے طور پر استعمال کرنا
مہارتوں کی کمی
ایک دو لسانی شخص دو زبانوں پر تو عبور رکھ سکتا ہے لیکن ایک زبان کے مفہوم کو دوسری زبان میں منتقل کرنے کا ماہر نہیں ہوتا۔ اس میں وضاحت طلب کرنے کے اعتماد یا نوٹس لینے کے تجربے کی کمی ہو سکتی ہے، جو کہ پیچیدہ معلومات کی منتقلی کے دوران ایک انتہائی اہم مہارت ہے۔ اس کے پاس رسمی یا پیچیدہ حالات کے لیے ضروری الفاظ کے علم کی کمی ہو سکتی ہے۔
غلط فہمی کا خطرہ
قانونی، طبی یا دیگر حساس حالات میں غیر تربیت یافتہ دو لسانی افراد سے ترجمانی کروانے کے سنگین نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں بیماری کی غلط تشخیص، قانونی حقوق کی غلط تفہیم، باہمی رضامندی کے مسائل یا رازداری کی خلاف ورزی جیسے نقصانات ہو سکتے ہیں۔
غیر تصدیق شدہ
ان کی لسانی اور ترجمانی کی مہارتوں کا کسی آزاد ادارے کی طرف سے باقاعدہ جائزہ نہیں لیا گیا ہوتا۔
خاندان کے ارکان بطور زبانی مترجم
خاندان کے ارکان کو بطور مترجم استعمال کرنا اضافی مسائل پیدا کرتا ہے:
- وہ اصطلاحات کے علم میں کمی کی وجہ سے، یا جذباتی، ثقافتی یا ذاتی وجوہات کی بنا پر معلومات کو بڑھا چڑھا کر یا حذف کر کے خطرناک غلطیاں کر سکتے ہیں
- وہ حالات اور معاملات کو اپنے زاویۂ نگاہ سے بیان کر سکتے ہیں
- متعلقہ افراد رازداری کی وجوہات کی بنا پر خاندان کے سامنے تمام ضروری معلومات شیئر کرنے سے کتراتے ہیں
- یہ خاندانی رکن کے لیے ذہنی دباؤ اور ٹراما کا باعث بن سکتا ہے
18 سال سے کم عمر کے کسی بھی بچے یا نوجوان سے ترجمانی کرنے کے لیے نہیں کہا جانا چاہیے۔ ایک پیشہ ور مترجم کی خدمات حاصل کرنے سے خاندان کو جذباتی مدد فراہم کرنے اور سوالات پوچھنے پر توجہ مرکوز کرنے کا موقع ملتا ہے۔
وہ مواقع جہاں دو لسانی افراد انتہائی کار آمد ثابت ہوتے ہیں
جہاں گفتگو میں خطرے کا عنصر کم ہو اور سو فیصد درستگی لازمی نہ ہو، وہاں دو لسانی افراد ایک اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ دو لسانی ملازمین بطور ریسیپشنسٹ، نرس، ایڈمنسٹریشن آفیسرز، مارکیٹنگ کے ماہرین، ٹور گائیڈز اور دیگر عہدوں پر خدمات انجام دیتے ہیں۔ ان کی دو زبانیں بولنے کی صلاحیت کمیونٹی کے اندر رابطوں کو بہتر بناتی ہے۔
صحت کے شعبے میں، وہ دو لسانی ہیلتھ ورکرز جو مریض کے ثقافتی پس منظر سے واقف ہوں، ثقافتی طور پر مناسب دیکھ بھال کی فراہمی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ تاہم، درج ذیل صورتوں میں ہمیشہ ایک پیشہ ور مترجم کی خدمات حاصل کریں:
- جہاں کسی معاملے میں باہمی رضامندی (consent) شامل ہو
- جہاں بیماری کی تشخیص، علاج کے منصوبوں (ٹریٹمنٹ پلانز) اور دیگر انتہائی اہم یا جذباتی حالات پر بات چیت ہو رہی ہو۔
کونسے سوالات پوچھنے چاہیے
کسی پیشہ ور زبانی مترجم اور ایک عام دو لسانی شخص کے درمیان انتخاب کرتے وقت درج ذیل پر غور کریں:
- کیا اس معاملے میں کوئی اخلاقی پہلو شامل ہیں؟
- کیا غلط فہمی کے نتیجے میں سنگین منفی نتائج برآمد ہو سکتے ہیں؟
- کیا یہ گفتگو یا معلومات قانونی طور پر پابند ہیں؟
- کیا مجھے رضامندی دینے یا لینے کی ضرورت ہے؟